Urdu Poetry

"ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے 
ستم کی تیز آندھی میں 
خزاں آثار پیڑوں سے 
بکھرتے پات کی صورت 
ہوا کا ہاتھ تھامے 
چل رہی ہے کئی الزام سر لے کر
ہمیشہ خشک آنکھوں سے
جو دل اپنا بھگوتی ہے
کبھی شکوہ نہیں کرتی
وہی حوا کی بیٹی ہے
کسی انجان رستے پر
کسی ظالم اشارے پر
کسی دیوار میں چنوائی جاتی ہے
میرے خالق نے گوندھا ہے
اسے انمول مٹی سے
مگر یہ کون جانے
کون سمجھے
ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے
یہی حوا کی بیٹی ہے 
Share on Google Plus

About Rukhsar

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment