کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی شب پوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا
ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا
اس شہر میں کس سے ملیں، ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص ہے دیوانہ تیرا
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص ہے دیوانہ تیرا
کوچے کو تیرے چھوڑ کر، جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا
دو اشک جانے کس لئے، پلکوں پہ آکے ٹک گیے
الطاف کی بارش تیری ، اکرام کا ردیا تیرا
الطاف کی بارش تیری ، اکرام کا ردیا تیرا
اے بے دریغ و بے ایماں! ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تیری وحشت سہی ، ہم کو سہی سوادا تیرا
ہم کو تیری وحشت سہی ، ہم کو سہی سوادا تیرا
ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگزر
رستہ کبھی روکا تیرا؟ دامن کبھی تھاما تیرا؟
رستہ کبھی روکا تیرا؟ دامن کبھی تھاما تیرا؟
ہاں ہاں تیری صورت حسیں! لیکن تو ایسا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا تیرا
اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا تیرا

0 comments:
Post a Comment