آج یوں مسکرا کے آئے ہو
جیسے سب کچھ بھلا کے آئے ہو
یہ جو تم آج جا کے آئے ہو
بھول کر بھی جس طرح کوئی آئے
شہر میں یوں وفا کے آئے ہو
کیوں جھپکتی نہیں میری آنکھیں
چاندنی میں نہا کے آئے ہو
دل سمندر میں چاند سا اترا
کیسی خوشبو لگا کے آئے ہو
صبح کی اولیں کرن کی طرح
رات ساری جگا کے آئے ہو
کیا بہانہ بنا کے جانا ہے
کیا بہانہ بنا کے آئے ہو
کوئی جھونکے سے کس طرح پوچھے
کتنی شمعیں بجھا کے آئے ہو
آگۓ ھو تو آوٴ بسم الله
دیر لیکن لگا کے آۓ ہو
بے کلی اس قدر ہے کیوں امجد
کیا کہیں کچھ گنوا کے آئے ہو

0 comments:
Post a Comment