Urdu Poetry


آج یوں مسکرا کے آئے ہو  
جیسے سب کچھ بھلا کے آئے ہو
یہ نشانی ہے دل کے لگنے کی
یہ جو تم آج جا کے آئے ہو
بھول کر بھی جس طرح کوئی آئے
شہر میں یوں وفا کے آئے ہو
کیوں جھپکتی نہیں میری آنکھیں
چاندنی میں نہا کے آئے ہو
دل سمندر میں چاند سا اترا
کیسی خوشبو لگا کے آئے ہو
صبح کی اولیں کرن کی طرح
رات ساری جگا کے آئے ہو
کیا بہانہ بنا کے جانا ہے 
کیا بہانہ بنا کے آئے ہو
کوئی جھونکے سے کس طرح پوچھے 
کتنی شمعیں بجھا کے آئے ہو
آگۓ ھو تو آوٴ بسم الله 
دیر لیکن لگا کے آۓ ہو
بے کلی اس قدر ہے کیوں امجد
 کیا کہیں کچھ گنوا کے آئے ہو
Share on Google Plus

About Rukhsar

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment